پاکستان کا مسئلہ فلسطین کی کاوشوں پر اسرائیل بلبلا اٹھا

اسرائیلی فوج نے مسجد اقصی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہ کشیدگی کا آغاز ہوا
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی اموات کی تعداد 292 ہوگئی جبکہ 1990 کے قریب افراد ہوئے

اس کے علاوہ غزہ میں بمباری کےنتیجے میں الجزیرہ، ایسوسیٹڈ پریس اور مڈل ایسٹ آئی کے میڈیا ہاؤسز تباہ کیے جاچکے ہیں

اسرائیلی بربریت گیارہ روز تک جاری رہی جس میں سینکڑوں شہادتیں ہوئیں

پاکستان کی جانب سے اہم قدم اٹھایا گیا اور اور اسرائیلی جارحیت پر دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے دنیا کے سامنے اسرائیلی جنگی جرائم کو بے نقاب کیا جس پر نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ مسلم ممالک سمیت دیگر ممالک کے رہنماؤں نے بھی فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کی۔ پاکستان کی جانب سے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی ظلم و بربریت کو دنیا کے سامنے لانے کی کوششیں کی گئیں جس سے اسرائیل بلبلا اٹھا

وزیر خارجہ کی کاوشوں سے اسرائیل کو شدید دھچکا پہنچا اور مجبوراً اسرائیلی وزیراعظم نے سیز فائر کا اعلان کیا۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے مسئلہ فلسطین پر بھر پور آواز اٹھانا اسرائیلی حکومت کو ایک آنکھ نہ بھایا جس پر اب اسرائیل نے بھی بھارت کی طرح پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلون اشیز نے ٹوئٹر پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا چیمپئین پاکستان خود شیشے کے گھر میں رہتا ہے، اقوام متحدہ میں مشرقی وسطیٰ کی واحد جمہوریت کو درس دے رہا ہے، یہ منافقت کی اعلیٰ مثال ہے۔

انہوں نے پاکستانی وزارت خارجہ کے آفیشل اکاؤنٹ پر اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے اجلاس سے متعلق کی گئی ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے یہ ٹوئٹ کی تھی جب کہ اس بیان کو خود اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی ری ٹوئٹ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں