سندھ میں پکے ڈاکو کچے ڈاکوؤں کو استعمال کر رہے ہیں: حلیم عادل شیخ

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سندھ میں اس وقت پہلے ڈاکو کچے ڈاکوؤں کو استعمال کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق علیم عادل خان نے میں کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے سندھ میں پچھلے 13سال سے معاشی ڈاکو راج جاری ہے اور اس ڈاکو راج نے اب تک صوبہ سندھ میں سات ہزار سات سو اسی ارب روپے ہڑپ کر لیے ہیں۔

ذراۂع کے مطابق حلیم عادل خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ ڈاکوؤں کا مسئلہ پانی کے مسئلہ میں بہہ جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی حکومت کی بقا کے لیے کوششیں کرتے کرتے نیشنل سکیورٹی رسک بن چکی ہے۔

حلیم عادل شیخ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ شکارپور میں ڈاکو آزاد گھومتے نظر آرہے ہیں وہ بکتر گاڑیوں پر چڑھ چڑھ کر ویڈیو بنا کر حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کچے کے ڈاکو تو بے چارے ہیں جو کہ پکے ڈاکوؤں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں اور پکے ڈاکو کراچی کے بڑے بڑے بنگلوں میں قیام پذیر ہیں۔

سندھ حکومت سے سوال کرتے ہوئ حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ آپ اپنے بیانات میں کہتے ہیں کہ 8 ڈاکو مارے گئے ہیں۔ اگر ڈاکو مارے گئے ہیں تو ان کی تصاویر دکھائی جائیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ ایس ایس پی اور ڈی آئی جی کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ جب وزیر اعلی سندھ شکارپور کے لیے گئے تو ان کے ساتھ کوئی بھی ایم پی اے یا ایم این اے کیوں نہ تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی کہتا ہوں کہ آئی جی سندھ کو ہٹا کر اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ بھرتی کرلیں کیونکہ سندھ میں آئی جی حکومت نے سندھ کے تابع ہے۔

پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے علیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ دونوں کو اپنے سے 32 فیصد کم پانی مہیا کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں