طیارہ حادثہ: پائلٹ نے ایمرجنسی لینڈنگ کی کال نہیں کی تھی، ترجمان پی آئی اے

طیارہ حادثہ: پائلٹ نے ایمرجنسی لینڈنگ کی کال نہیں کی تھی، ترجمان پی آئی اے

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے کہا ہے کہ ابھی تک کی اطلاع کے مطابق پائلٹ نے ایمرجنسی لینڈنگ کی کال نہیں کی تھی، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کی بات غلط ہے۔

کراچی میں مسافرطیارہ کیسے گرا؟ وجہ کیا تھی؟ غلطی کہاں ہوئی؟ جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے ترجمان پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) عبداللہ حفیظ کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم 4 دن سے جائے حادثہ پر موجود ہے، شواہد جمع کیے جارہے ہیں، ملبہ اٹھانے کا کام شروع کیا گیا ہے اور ملبہ جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک کی اطلاع کے مطابق پائلٹ نے ایمرجنسی لینڈنگ کی کال نہیں کی تھی، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کی بات غلط ہے۔
پاکستان ائیر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کے ترجمان کیپٹن عمران ناریجو کا کہنا تھا کہ جس طرح سے طیارے کے پارٹس غائب ہوئے، وہ شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں، قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ طیارہ 250 ناٹ پر تھا، اس طرح کی قیاس آرائیاں میں بھی کرسکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے کہا تھا تحقیقاتی بورڈ متوازن نہیں ہے، طیارے کا اہم حصہ لا پتہ ہونا باعث تشویش ہے لہٰذا تحقیقات میں پالپا کو بھی شامل کیا جائے۔

ونگ کمانڈر (ر) نسیم احمد کا کہنا ہے کہ طیارے کی تباہی پر سیاست کی جارہی ہے، تفتیش پر زیادہ اعتراض نہ کیے جائیں، انویسٹی گیشن ٹیم کو چاہیے کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول برقرار ر کھیں، جلد بازی نہ کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طیارہ حادثے کی انویسٹی گیشن میں عالمی معیار کے مطابق ایک سال لگتا ہے لہٰذا طیارہ حادثے کی انویسٹی گیشن کی عبوری رپورٹ شائع ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ رن وے سے چند سیکنڈز کے فاصلے پر آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے سمیت 97 افراد جاں بحق جب کہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔

واقعے کے بعد وفاقی حکومت نے ائیرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے صدر ائیرکموڈور عثمان غنی کی سربراہی میں 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم بنائی تھی جس نے جائے حادثہ کا دورہ کیا تھا۔

حادثے کی تحقیقاتی ٹیم پر پالپا اور سندھ حکومت کی جانب سے اعتراض کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے ائیر بس کمپنی کے ٹیکنیکل ایڈوائزر کی 11 رکنی ٹیم آج صبح کراچی پہنچی تھی جس نے اپنے کام کا آغاز کردیا ہے اور ٹیم نے جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *