مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک بار پھر آمنے سامنے

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی  ایک بار پھر آمنے سامنے

ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم) میں تقسیم صاف نظر آرہی ہے ۔مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے سینٹ میں اپنا اپنا اپوزیشن لیڈر لانے کے لیے مہم جاری کر دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کسی بھی پارٹی کو سینٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر لانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے 26 سینیٹرز کے ووٹ چاہیے ہوں گے۔

مسلم لیگ نواز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سینٹ الیکشن میں ان کو 26  امیدواروں کی حمایت حاصل ہے۔ جن میں سے 17ووٹ مسلم لیگ ن کے، جے یو آئی کے 5 ، پی کے میپ اور نیشنل پارٹی کے 2،2 ووٹ شامل ہیں۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں انہیں 25 امیدواروں کی حمایت حاصل ہے۔ جن میں 21 ووٹ پیپلز پارٹی کے، عوامی نیشنل پارٹی کے 2 اور بی این پی مینگل کے بھی 2 ووٹ شامل ہیں۔

26 واں ووٹ حاصل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے وفد کے ہمراہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی الیکشن سے پہلے انتخابی اصلاحات چاہتی ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *