وزیراعظم نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی رپورٹس طلب کر لی

وزیراعظم نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی رپورٹس طلب کر لی

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی رپورٹس فوری طلب کرتے ہوئے انہیں وفاقی کابینہ کے کل کے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

اعلیٰ سطح کے حکومتی ذرائع نے بتایا ہےکہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی رپورٹس کے تفصیلی جائزے کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی سرکاری افسران سمیت مجموعی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔

وزیراعظم نے اس حوالے سے اپنے معاون خصوصی اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ تمام وزارتوں و ڈویژنز کے بطور ادارہ اور وفاقی سیکرٹریز سمیت سینیئر افسران کی کارکردگی رپورٹس وزیراعظم آفس اور کابینہ میں فوری پیش کریں۔

ذرائع کاکہناہےکہ اس حوالے سے منگل کو ارباب شہزاد وفاقی کابینہ کو پہلے مرحلے میں 11 وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو دیے گئے اہداف پر عمل درآمد پر بریف کریں گے جب کہ وزیراعظم خود اس حوالے سے متعلقہ وزیروں اور سیکرٹریز سے تفصیلات بھی لیں گے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت مواصلات، آبی وسائل، ہاؤسنگ، وزارت صنعت و پیداوار، نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور وزارت تجارت کی کارگردگی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

کابینہ کو وفاقی وزارت تعلیم و تربیت، موسمیاتی تبدیلی اور وزارت صحت کی کارکردگی رپورٹ کے علاوہ پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔

وزیراعظم نے معاون خصوصی کو وفاقی وزارتوں میں سیکرٹریز اور سینیئر افسران کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کا ٹاسک بھی دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کو مراعات دینے کی حکمت عملی بنائی جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے 2018 میں اقتدار سنبھالتے ہی تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی ہر تین ماہ بعد کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیاتھا تاہم اس پر ایک مرتبہ ہی عمل ہوسکا اور اب کارکردگی کے جائزہ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر 16 وزارتوں کو ناقص کارکردگی پر دوسری مرتبہ ریڈ لیٹر جاری کیا گیا ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *