بھارت نے لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد پاکستان کے خلاف مکروہ منصوبہ

بھارت نے لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد پاکستان کے خلاف مکروہ منصوبہ

بھارت نے لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد پاکستان کے خلاف مکروہ منصوبہ بنانا لیا، مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منصوبہ بندی کرلی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بارہا عالمی برادری کو بھارتی عزائم بارے کئی مرتبہ خبردار کر چکے۔

معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کرنے اور اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مکروہ منصوبہ بندی کر لی ہے، یہ سب کچھ لداخ میں چین اور دوسری سرحد پر نیپال کے ہاتھوں ذلت اور رسوائی کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج اپنی خفت مٹانے کے لیے کر رہے ہیں۔

بھارتی فالس فلیگ آپریشن کے لیے بنائے گئے منصوبے کے حقائق کو جانچنا ہوگا، منصوبے کے مطابق مقبوضہ وادی کے ایک ویران مقام پر دھماکہ خیز مواد اور کثیر رقم سے لدی ایک گاڑی کو پکڑا گیا ہے، تاہم کشمیری مجاہدین کا یہ طریقہ کار نہیں کہ وہ پلوامہ جیسا حملہ کریں اور اس کا کوئی بیک اپ پلان نہ ہو۔

نئے بھارتی منصوبے کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑی کا ڈرائیور پیدل فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، جس کا نہ پیچھا کیا گیا اورنہ ہی اسے گرفتار کیا گیا، بھارتی منصوبے کے مطابق بھارتی حکام نے گاڑی کو پکڑنے کے بعد پورا ایک دن اپنی تحویل رکھ کر اگلے دن دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

بھارتی ڈرامے کا سب سے ناپختہ حصہ پکڑی ہوئی گاڑی ہے، جس کا ڈرائیور بھاگ نکلا، گاڑی دھماکہ خیز مواد کے ساتھ حکام کی تحویل میں رہی اور اسے میڈیا کے سامنے کسی ریموٹ کنٹرول سے نہ اڑایا گیا، کیونکہ بھارت میڈیا کو اپنا دھماکہ خیز مواد دکھانا نہیں چاہتا تھا۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی 26 مئی کی رپورٹ میں بتایا جا چکا ہے کہ گزشتہ سال کے پلوامہ حملے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد بھارت سے ہی حاصل کیا گیا تھا، فالس فلیگ آپریشن کے لیے بھارت کا نیا ڈرامہ اندرونی خلفشار، انتقامی کاروائیاں اور کورونا وبا سے نمٹنے میں بری طرح ناکام مودی سرکار کے پاگل پن کا عکاس ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *