بینک میں موجود رقم کو کیسے محفوظ بنایا جائے ؟ جانیے

بینک میں موجود رقم کو محفوظ بنانا سیکھیں آن لائن بینکنگ نے ہماری زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بینک اکاؤنٹ میں رکھی رقم کوغیر محفوظ بھی بنادیا ہے۔

اگر آپ نے تھوڑی سی لاپرواہی کی توچند ہی لمحوں میں آپ بھاری رقم سے محروم ہو سکتے ہیں۔اس کا حل ذیل میں موجود ہے جو کہ آپکو ہیکرز اور فراڈی افراد کی دھوکہ دہی سے محفوط رکھ سکتا ہے

1- موبائل ایپلی کیشنز کو غیر ضروری رسائی مت دیں

کسی بھی ایپ کو فون کے ڈیٹا تک رسائی مت دیں اجازت دینے سے پہلے اچھی اچھی طرح پڑھ لیں

2- آن لائن بینکنگ کے لیے عوامی وائی فائی کا استعمال ہرگز مت کریں

عوامی وائی فائی غیر محفوظ ہوتے ہیں ہیکرز اسکے ذریعے باآسانی آپکی معلومات چرا سکتےہیں بہت سے لوگ مفت وائی فائی کے لیے شاپنگ مال میں گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں یاد رکھیں مفت وائی فائی ناصرف آپ کے نجی ڈیٹا، سوشل میڈیا کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ آپ کو بینک میں موجود بھاری رقوم سے محروم کر سکتی ہےکبھی بھی بینک کی آن لائن ٹرانزیکشنز کے لیے مفت وائی فائی استعمال مت کریں

3- پاسورڈ مشکل رکھیں

بینک کی ایپلی کیشن کا پاس ورڈ کبھی آسان نہیں رکھیں۔ آپ کا پاسورڈ ایک اسمال، ایک کیپٹل، نمبر، علامات( مثلا Mk6595#$) پر مشتمل ہونا چاہیے. اپنے پاس ورڈ کو باقاعدگی سے ہر تین چار ماہ بعد تبدیل بھی کرتے رہیئے۔

4- عوامی چارجنگ بوتھ پر موبائل چارج مت کریں

ہمیشہ اپنی چارجنگ کیبل ساتھ رکھیں اور اسی کی مدد سے عوامی مقامات پر لگے چارجنگ اسٹیشن پر اپنے موبائل کو چارج کریں۔

5- گوگل اسٹور کے علاوہ کسی اور جگہ سے موبائل ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ مت کریں

موبائل ایپلی کیشن کو ہمیشہ گوگل یا ایپل کے اسٹور سے ہی ڈاؤن لوڈ کریں۔

6-سیکیورٹی اپ ڈیٹ کو نظر انداز مت کریں

اپنے اسمارٹ فون پر سیکورٹی اپ ڈیٹ کو کبھی نظر انداز مت کریں، سافٹ ویئر اپ ڈیٹ سے آپ کے فون میں موجود بگس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے

7- بینک اورادائیگیوں سے متعلق ای میل اورمیسیجز پر کلک مت کریں

کبھی بھی ای میل، مسیجز یا فون کالز پر اپنی نجی معلومات فراہم نہ کریں۔

8- سوشل میڈیا پر نجی معلومات کا اندراج مت کریں

سوشل میڈیا یا ایس ایم ایس پر اپنی نجی معلومات جیسے کہ والدہ کا نام، پن نمبر، کارڈ نمبر یا کارڈ کی پشت پر دیا گیا تین ہندسوں پر مشتمل سیکیورٹی کوڈ کسی کو نہ دیں۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کر دیا

ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی حکومتی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا الیکٹرانک ووٹنگ کو ماننے سے انکار کر چکی ہے آتا گے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی الیکٹرانک ووٹنگ کو ناقابل عمل قرار دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کا حساس معاملہ پوری قوم کی منشا اور اعتماد سے حل کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی انتخابی اصلاحات تمام فریقین کی باہمی مشاورت اور عوام کی رائے کی روشنی میں ہونی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2018 میں پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے انتخابی اصلاحات پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن پارٹیز کے ساتھ مشاورت سے طے کی گئی تھیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں تحقیق کی جانے والی انتخابی اصلاحات پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔

قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2018 کی انتخابی اصلاحات کے متعلق تاریخی دستاویزات آج بھی موجود ہیں۔ وہ تاریخی انتخابی اصلاحات تمام پارٹیز کی مشاورت اور دستخط صحت پائی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے این آر او کا شور مچا کر اپوزیشن کی بےعزتی کی گئی جب وہ مثبت تجاویز اور میثاق معیشت کی باتیں کر رہی تھی۔

میاں محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات مسلم لیگ نون کر سکتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے اور ان کی تجاویز کو ماننے کا حوصلہ ہے۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپ الیکٹرونک ووٹنگ کو چھوڑ کر تباہ کی ہوئی معیشت اور مہنگائی اور بے روزگاری سے مرتی عوام کے لیے کچھ کریں۔

ہوشیار !ایسا سافٹ وئیر جو اینڈروئڈ کے لیے خطرناک ہے

اینڈروئڈ فونز کو نقصان پہنچانے والا ایک ٹیکسٹ میسج کی شکل میں بھیجا گیا پیغام پورے برطانیہ میں پھیل گیا ہے جو کہ حقیقت میں ایک خطرناک قسم کا ‘سپائی ویئر’ ہوتا ہے۔

اسے ‘فلو باٹ’ کا نام دیا جا رہا ہے اور یہ جس فون میں داخل ہوتا ہے اس کا انتظام سنبھالنے کے بعد اس سے خفیہ معلومات اکھٹی کرتا ہے جیسے بینک سے متعلق معلومات

ووڈا فون کے ایک ترجمان نے کہا کہ ‘صارفین کو اس مخصوص خطرناک سافٹ ویئر سے ہوشیار رہنا ہو گا اور ٹیکسٹ میسیجز پر موصول ہونے والے کسی بھی پیغام میں دیے گئے لنک پر کلک کرنے سے قبل احتیاط برتنی ہو گی۔’

برطانیہ کے قومی سائبر سکیورٹی مرکز ہدایات جاری کی ہیں جس میں بتایا گیا ہےکہ اگر آپ نے حملہ کرنے والی ایپلیکیشن غلطی سے ڈاؤن لوڈ کر دی ہے تو آپ نے کیا کرنا ہے’اگر صارفین نے غلطی سے لنک پر کلک کر دیا ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ ایسے متعدد طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔’

پاکستان نے واٹس ایپ کی طرح کی اپنی سوشل میڈیا اپیلی کیشن تیار کرلی

وفاقی وزیر امین الحق نے واٹس ایپ کی طرح کی اپنی سوشل میڈیا اپیلی کیشن’ اسمارٹ آٖفس‘ تیار کرنے کی تصدیق کی ہے توقع ہے کہ جون 2021 تک ’اسمارٹ آٖفس‘ کے نام سے ایپلی کیشن لانچ کردیں گے تاہم یہ آزمائشی بنیادوں پر ہوگی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ اسی طرز کی دوسری ایپلی کیشن کسی دوسرے نام سے عام پاکستانی صارفین کے لیے بھی لانچ کریں گے، نئی ایپ کا ڈیٹا، کمیونیکیشن اور ریکارڈ مکمل محفوظ ہوگا

واٹس ایپ کا بہترین متبادل

سگنل ایپ :-

‘انکرپٹڈ کمیونیکیشن’ کی وجہ سے سگنل ایپ کے استعمال میں گزشتہ چند سالوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں واٹس ایپ جیسی تمام تر خصوصیات موجود ہیں اور یہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ 9 تو 5 میک کے مطابق سگنل ایپ اپنی پرائیوسی پالیسی کے حوالے سے بلکل واضح ہے، اس ایپ پر کی جانے والی چیٹ کے صارفین اسکرین شاٹ بھی نہیں لے سکتے جبکہ یہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع نہیں کرتی۔

2۔ ٹیلی گرام
اب بات کرتے ہیں واٹس ایپ کے بہترین دوسری متبادل ایپ کی جو کہ ٹیلی گرام ہے، یہ ایپ بھی صارفین کو واٹس ایپ کی ہی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ساتھ ہی فیچرز فراہم کرتی ہے۔

ٹیلی گرام صارفین اس ایپ کے ذریعہ انکرپٹڈ ڈیٹا، تصاویر، ویڈیوز، سیلف ڈسٹرکٹنگ پیغامات اور ہر طرح کی دستاویزوں کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔

پلیٹ فارم کا دعوی ہے کہ یہ واٹس ایپ سے زیادہ محفوظ ہے

عیدالاضحی کب منائی جاۓ گی،وفاقی وزیر نے اعلان کر دیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عیدالاضحیٰ 31 جولائی کو منائی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم رویت ہلال کمیٹی کا کام مزید کم کردیں گے اگلے سال اسلام آباد میں ایک آبزرویٹری کمیٹی بنائی جائے گی جو کہ چاند کے متعلق آگاہی کا کام کرے گی۔

ان کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ یہ کام تمام صوبوں کی مشاورت سے کیا جائے گا اگر صوبے چاہیں گے تو آبزرویٹری کمیٹی تشکیل دی جاۓ گی۔ اس سے رویت ہلال کمیٹی کا کام مزید کم ہو جائے گا۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے این ڈی ایم اے کو سپرے ڈرونز فراہم کیے جائیں گے جس کا معاہدہ ایک نجی کمپنی کے ساتھ طے پا چکا ہے۔

واضح رہے کہ اس بار وفاقی وزرا اور رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے عید منانے کے دن پر مختلف رائے سامنے آئی ہے۔ جس کے بعد وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے متفقہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک پاکستان میں عید الاضحٰی 31جولائی کو ہی منائی جائے گی۔

ٹوئٹر صارفین کے لیے بڑی خوش خبری، نیا فیچر متعارف کروایا دیا گیا

سوشل میڈیا پر پیغامات کی ایپ ٹوئٹر میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کروایا دیا گیا.

ٹوئٹر صارفین سابقہ ٹوئٹنگ فیچر کے ساتھ ساتھ اب آڈیو ٹوئٹ بھی کر سکیں گے.

کمپنی کے مطابق پہلے صرف سادہ ٹوئٹ کو ٹوئٹ کیا جاسکتا تھا لیکن اب آڈیو بھی ٹوئٹ کی جاسکتی ہے۔

اس فیچر کو استعمال کرتے ہوئے 2 منٹ 20 سیکنڈ کی آڈیو ٹوئٹ کی جاسکے گی.

آڈیو ٹوئٹ میں اسٹارٹ اور پوز کا آپشن بھی ہوگا جسے صارفین کے فالوورز استعمال کرسکتے ہیں۔

آڈیو ٹوئٹ کا آپشن بائیں جانب کی طرف ہوگا چنانچہ جب صارف آڈیو ریکارڈ کر کے پوسٹ کرنے جا رہا ہوگا اس سے قبل وہ کیپشن بھی لکھ سکتا ہے۔

فی الحال اس فیچر سے آئ او ایس صارفین ہی مستفید ہو سکیں گے ، مگر آئندہ چند دنوں میں اسے اینڈرائڈصارفین کے لیے بھی جاری کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ٹویٹر اس وقت پوری دنیا کی مشہور ترین ایپ بن چکی ہے۔ پوری دنیا سے مشہور ترین شخصیات سے لے کر تمام چھوٹی شخصیات تک لوگ ٹویٹر کا استعمال کرتے ہیں۔

ٹوئٹر ایک واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے آپ اپنے پیغامات اصلی شکل میں اپنے مداحوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

اب آپ کا لباس بھی آپ کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرےگا

عالمگیر وبا کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس وائرس کے خاتمے کے لیے دنیا بھر میں سائنسدان ویکسین بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب متعدد ٹیکنالوجی کمپنیاں وائرس ٹریکنگ ایپس اور نئی نئی ایجادات بھی کر رہی ہیں جو کہ کافی حد تک مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کی جانب سے حال ہی میں ‘کووڈ-19 سینسر’ تیار کیا گیا ہے جسے کپڑوں پر لگا کر آپ صحت کی نگرانی کر سکتے ہیں۔

اس سینسر کو کپڑوں میں لگانے کے بعد یہ آپ کی سائنس کی رفتار، دل کی دھڑکن اور جسم کا درجہ حرارت بھی بتاتا ہے، یہ واٹر پروف سینسر ہر قسم کے کپڑوں میں لگ سکتا ہے اور پانی لگنے سے خراب بھی نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ بھیانک وبا کے باعث اسپتالوں میں جانا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اب ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہیں جس کی مدد سے آپ گھر بیٹھے اپنی صحت کی دیکھ بھال کرتے ہوئے ڈاکٹر کو اپنی صحت کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔

انانیمس کے اعلانِ جنگ کا مطلب کیا ہے؟

ہیکروں کی تنظیم ’انانیمس‘ نے جمعے کو پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد انتہا پسندوں کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کر دیا ہے۔

ایک یو ٹیوب ویڈیو میں تنظیم کا مخصوص ماسک پہنے ہوئے ایک ترجمان نے پیغام دیا کہ وہ اپنے علم کو ’انسانیت کو متحد‘ کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

فرانسیسی زبان میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ ان سے مقابلے کے لیے تیار ہو جائے اور کہا کہ ’انانیمس تمھیں دنیا کے ہر کونے سے تلاش کر لے گی۔‘

اس تنظیم نے سال کے شروع میں فرانسیسی اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے کے بعد بھی اسی طرح خبردار کیا تھا۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد سے اب تک وہ دولت اسلامیہ کے ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ناکارہ بنا چکی ہے۔

بی بی سی کلک کے ٹیکنالوجی ماہر ڈین سمنز اور دولت اسلامیہ پر گہری نظر رکھنے والے سکیورٹی تجزیہ کار چارلی ونٹر نے اس صورتحال پر روشنی ڈالی ہے ۔

اعلان جنگ سے کیا مراد ہے؟

’ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہیں‘

ایک معروف ماہر معاشیات نے متنبہ کیا ہے کہ انسان کو جلد ہی اپنے ہاتھوں کی جانے والی ماحولی تبدیلی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

پروفیسر رچرڈ ٹال نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں 1.1 سینٹی گریڈ اضافے سے فائدے سے زیادہ نقصان ہے۔

تاہم ماحولیات کے بہت سے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پروفیسر پول ماحولیات کے بارے میں تشکیک کا شکار بتاتے ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے فصل اور جنگلات کی فرٹیلازنگ کے لیے CO2 کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی تھی۔

ماحولیات یا آب و ہوا یا موسمیات کی مخالفت کرنے والے عام طور پر ان کے نظریات کا حوالہ دیتے ہیں۔

151114173808_chennai_marina_beach_pollution_640x360_bbc_nocredit
اس سے قبل پروفیسر پول نے فصل اور جنگلات کی فرٹیلازنگ کے لیے CO2 کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی تھی

پروفیسر پول نے بی بی سی کے پروگرام بدلتی آب و ہوا میں بات کرتے ہوئے کہا: ’بہت سے لوگ شاید یہ کہیں گے کہ درجۂ حرارت میں خفیف اضافہ انسانوں کے لیے مجموعی طور پر مفید ہوگا لیکن اگر اسے ڈالر میں دیکھیں تو اس کا مجموعی اثر منفی آئے گا۔‘

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انسان اس نکتے پر پہنچ گیا ہے جہاں سے اسے اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا تو انھوں نے کہا: ’جی ہاں۔ تعلیمی میدان میں کم از کم اس پر اتفاق رائے ہے۔‘

لیکن ماحولی تبدیلی کی مخالفت کرنے والوں کے لیے یہ متنازع ہے کیونکہ وہ اکثر پروفیسر ٹول کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہمیں درجۂ حرارت میں اضافے کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس ایک دوسرے سائنسدان میٹ رڈلی کہتے ہیں کہ درجۂ حرارت میں دو ڈگری تک اضافے سے دنیا کو فائدہ پہنچتا رہے گا۔