کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی دل آزاری نہ کی جائے: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی دل آزاری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے او آئی سی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی گئی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلامو فوبیا کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ او آئی سی ممالک چاہیں تو عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خاتمے کے متعلق آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعظم میں عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا میں اسلامی فوبیا کو ہوا دی جا رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسلم ممالک اور مغربی ممالک کے درمیان خلا کم ہو اور تعلقات اچھے ہو سکیں۔

سفیروں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے دلوں میں بستے ہیں ان کے خلاف کہیں گی کوئی بھی بات نا قابل برداشت ہوگی۔ مغربی دنیا میں اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو مغربی دنیا کو اس بے حرمتی کا جواب دینا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں پاکستان اور دوسرے ممالک کے درمیان بین المذہب ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اسلاموفوبیا سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان نفرت پیدا ہوتی ہے۔ جب بھی شدت پسندی کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے تو دنیا بھر میں موجود ہیں مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسی ٹرمز کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔ اگر کوئی مسلمان دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہو تو دنیا میں موجود مسلمانوں پر الزام عائد کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی ان وسائل کا حل ڈھونڈ سکتی ہے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ ان شدید مسائل سے نمٹنے کے لیے تمام مسلم ممالک کو ایک ہونا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں