آپ روتے چیختے بچوں کی آوازوں کے عادی نہیں ہو سکتے، فلسطینی خاتون

گزشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے القدس میں فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں غزہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پیر کی شام سے غزہ پر 600 سے زیادہ فضائی حملے کئے جبکہ حماس نے اسرائیل پر 1600 سے زائد راکٹ داغے تھے

اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد109 سے تجاوز کرچکی ہے، شہداء میں 28 بچے اور 15 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 621 افراد زخمی ہوگئے ہیں

نجوہ غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے رہائشیوں میں سے ہیں انہوں نے بتایا کہ جب سے ان کے گھر کے قریب یہ میزائل گرنے لگے ہیں تب سے نجوہ خوف کے مارے سو نہیں سکی ہیں۔

نجوہ نے کہا کہ ‘راتیں ہمارے لیے، ہمارے بچوں کے لیے انتہائی خوفناک ہوتی ہیں۔ کسی لمحے بھی آپ اپنی قبر میں ہوں گے ہمارے اردگرد سب کچھ لرز رہا ہوتا ہے اور ہم بھی خوف سے لرز رہے ہوتے ہیں۔‘

نجوہ کہتی ہیں ‘ایک لمحے میں آپ بمباری کے درمیان ہو سکتے ہیں۔ جو جگہ آپ کے لیے محفوظ ترین ہونی چاہیے، وہ آپ کی قبر بن سکتی ہےیہ خیال بہت خوفناک ہے

غزہ کی پٹی میں 18 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے زمینی فوج کی کارروائی کی افواہیں اڑ رہی ہیں جس نے نجوہ کے خوف کو بڑھا دیا ہے۔

نجوہ کہتی ہیں ‘ہم محفوظ نہیں ہو سکتے۔ بطور ایک ماں یہ انتہائی خوفناک ہے اور میرے جذبات کے لیے یہ بہت پرتھکن ہے، میری انسانیت کو یہ تھکا رہا ہے۔‘

نجوہ نے اپنے بچوں کے بارے میں کہا کہ ‘میں نے انھیں کچھ بھی کہنا بند کر دیا ہے میں انھیں نہ بھی بتاؤں تو وہ سارا دن خبریں دیکھتے ہیں۔ یہ سب سوشل میڈیا پر ہے۔ سب جگہ تباہی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ‘آپ اس خوف کے عادی نہیں ہو سکتے۔ آپ روتے چیختے بچوں کی آوازوں کے عادی نہیں ہو سکتے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں