اسرائیلی جارحیت پر ترک صدر کا ردعمل،اسرائیلی وزیر کا دعوت نامہ منسوخ

اسرائیلی جارحیت بڑھتی چلی جا رہی ہے یوم القدس کے روز مسجد اقصی کے نمازیوں پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں مسلمان زخمی ہوئے اس واقعے کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو گیا اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

دوسری جانب مجاہدین نے اسرائیل پرراکٹ فائر کیے جس کے جواب میں اسرائیلی جارحیت ابھی تک جاری ہے اس صورتحال میں ترکی کی جانب سے اہم اعلان سامنے آیا ہے ترکی نے اسرائیلی جارحیت پر شدید ردعمل دیا اور عملی قدم بھی اٹھا لیا

ترکی نے جون میں ہونے والی توانائی کانفرنس میں اسرائیلی وزیر کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا ہے اس فیصلے سے ترک نے اسرائیل کو بھی آگاہ کر دیا اور صاف بتایا کہ مسجد اقصی اور مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے گئے ہم نے اس کے خلاف احتجاجاً یہ کیا ہے

اس کے علاوہ ترک عوام میں بھی شدید اشتعال کی لہر پیدا ہوئی اور ترک مظاہرین نے فلسطینیوں کے حق میں اپنے ملک کے دارلحکومت میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا

ترک مظاہرین اسرائیلی سفارتخانے کے باہر ریلی کی شکل میں پہنچے اور موبائل کی ٹارچ جلا کر احتجاج کیا اس کے بعد ترک صدر نے ایک اہم بیان بھی جاری کیا کہ اب مظلوم فلسطینیوں کا عملی طور پر ساتھ دیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں