سی پیک کے متعلق چیئرمین سی پیک نے بڑی خوشخبری کا اعلان کر دیا

ذرائع کے مطابق چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تین ممالک پاکستان میں طبی آلات کی تیاری میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ ان ممالک سے کینیڈین جرمن اور چائنہ کے سرمایہ کار شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری ہمارا قومی پروجیکٹ ہے۔ عاصم سلیم باجوہ کے جانب سے کراچی میں چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ سی پیک پاکستان کا قومی پروجیکٹ ہے پوری قوم سی پیک سے جڑی ہوئی ہے اور اس منصوبے پر فخر کرتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کے سی پیک منصوبے کو مکمل ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

عاصم سلیم باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ملک گزشتہ چالیس سال میں دہشت گردوں سے لڑتا رہا ہے۔ اس لڑائی میں پاکستان کا انفراسٹرکچر بہت متاثر ہوا ہے اور بہت سا جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی جنگ ہو اس کے بعد تعمیر نو ہی ہوتی ہے۔ چالیس سال دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے بعد اپنے پیروں پر آگے بڑھنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پوری قوم چاہتی ہے کہ سی پیک کو تکمیل تک پہنچایا جائے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ملتان سکھر موٹروے اور ہزارا موٹروے کو مکمل کرلیا گیا ہے۔ اندرون سندھ اور تھر میں بہت سے نئے منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔ ایک موٹروے بنانے جا رہے ہیں جس سے کراچی سے پشاور کا سفر کم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ چین سے ہمیشہ اقتصادی تعلقات بڑھانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ مزید خواہش ہے کہ چین کے ساتھ ہمارا روڈ نیٹ ورک اور تجارت میں مزید اضافہ ہو۔ زراعت میں بھی کچھ نئے پروجیکٹس کا آغاز کیا گیا ہے جن میں چین کی جانب سے دلچسپی دکھائی گئی ہے۔ چائنا ہمارے ساتھ آئی ٹی سیکٹر میں بھی کام کرنا چاہتا ہے۔ گوادر فری زون میں ایک ہزار ایکڑ کا اکنامک سیکٹر بنانے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلع فیصل آباد میں بہت سے نئے سرمایہ کار آ رہے ہیں جس سے نت نئی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ فیصل آباد میں ہیں جرمنی، کینیڈین اور چائنا کے سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ تینوں ممالک طبی آلات کی صنعت میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

عاصم سلیم باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ ابھی ان منصوبوں کو منظور کیا جارہا ہے جن کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ کوہالہ آزاد پتن میں ہائیڈرل پاور پروجیکٹ کا معاہدہ طے پایا ہے۔ گوادر پورٹ پر مزید بہتری سے کام کرکے ٹریفک کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں