بل گیٹس کا آرمی چیف سی ٹیلی فونک رابطہ، انسدادِ پولیو کے حوالے سے تبادلہ خیال

ذرائع کے مطابق پاک فوج کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں کی جانب سے انسداد پولیو اور کرونا وائرس کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کی جانب سے انسداد پولیو مہم میں پاک فوج کی انتھک خدمت کو سراہا گیا ہے جب کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی جانب سے دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے لئے بل گیٹس اور ان کی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری مہم کی تعریف کی گئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پولیو کے خاتمہ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں انسداد پولیو قومی مقصد اور قومی کوشش ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب تک ایک بھی بچہ پولیو وائرس میں مبتلا نہیں ہوگا تب اسے کامیابی کہیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پولیو ٹیم اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسداد پولیو مہم میں پولیو ٹیمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششیں قابل ستائش اور کارفرما ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز کا بائیکاٹ ختم کردیا

ذرائع کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اندر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز کا بائیکاٹ ختم کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان بھر میں سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں کام کرنے والے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پچھلے تین روز سے بائیکاٹ کیا جارہا تھا۔ تاہم آج او پی ڈیز کے بائیکاٹ کو باقاعدہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کے اعلان کرنے کے حوالے سے ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ او پی ڈیز کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرونا وائرس کی تیسری لہر کی بدولت موجودہ صورتحال اور متعدد مریضوں کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ او پی ڈیز کے بائیکاٹ کے ختم کرنے کے فیصلے کے ساتھ ہی صوبے بھرکے تمام سرکاری اسپتالوں میں تمام انڈیز کو فعال کردیا جائے گا۔

دوسری جانب یہ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے ینگ ڈاکٹرز کے تمام مطالبات پر عملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان بھر میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے24 مئی سے روزانہ او پی ڈیز کے اندر دو گھنٹے کا بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔

پاکستان میں کرونا ویکسین لگنے کے بعد سامنے آنے والے سائیڈ ایفیکٹس کی رپورٹ جاری کردی گئی

ذرائع کے مطابق ملک پاکستان میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے لگائے جانے والی کرونا ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت صحت پاکستان کی جانب سے 15 مئی تک لگائی جانے والی کرونا ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس کی تفصیلات رپورٹ کی شکل میں شائع کر دی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت صحت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کورونا ویکسین لگوانے والے 38 لاکھ افراد میں سے صرف 4329 افراد نے کرونا ویکسین کے سائیڈا یفیکٹس سامنے آئے ہیں۔

وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کرونا ویکسین لگنے کے بعد منفی اثرات والے 4329 افراد میں سے 35.7 فیصد افراد بخاری یا کپکپی میں مبتلا ہوئے ہیں جبکہ منفی اثرات سامنے آنے والے افراد میں سے 33.1 فیصد افراد کی جانب سے یہ شکایت سامنے آئی ہے کہ جہاں کرونا ویکسین کا انجکشن لگایا گیا تھا وہاں درد محسوس ہوتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ کورونا ویکسین کے منفی اثرات سامنے آنے والے افراد میں سے 15.4 فیصد افراد میں سر درد، جسم میں درد اور فلو جیسی شکایات سامنے آئی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ کرونا ویکسین لگوانے والے 6.7 فیصد افراد میں ڈائیریا کی شکایت سامنے آئی ہے جب کے بقیہ 8.9 فیصد افراد میں ہلکی نوعیت کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

بیرون ملک سے پاکستان آنے والے مزید 28 افراد میں کرونا وائرس موجود

ذرائع کے مطابق دوسرے ممالک سے پاکستان کی طرف سفر کرنے والے پاکستانیوں میں کرونا وائرس سے کے مثبت کیسس کا اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز ملک پاکستان میں آنے والے 28 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کراچی لاہور اور پشاور کے ائیر پورٹس پر بیرون ملک سے آنے والے افراد میں کورونا وائرس کی تشکیل سامنے آ رہی ہے تاہم اس سلسلے میں رپورٹ انتظامیہ کی جانب سے بیرون ملک سے پاکستان آنے والے افراد پر انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں

ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پشاور میں موجود باچا خان ایئرپورٹ پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم باچا خان ایئرپورٹ پر کرونا وائرس کی ریپڈ ٹیسٹنگ بھی جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی ایئرلائن کا استعمال کر کے بیرون ملک سے پاکستان آنے والے 28 افراد کرونا وائرس میں مبتلا پائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے تمام کرونا پوزیٹیو مسافروں کو قرنطینہ کر کے کھانے کے باکسز فراہم کردیئے گئے ہیں۔ باچا خان ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پانچ مئی سے اب تک بیرون ملک سے آنے والے مسافروں میں سے 38 مسافر کرونا وائرس میں مبتلا پائے گئے ہیں۔

ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سے پاکستان ہونے والے کسی بھی مسافروں کو بغیر کرونا ٹیسٹ کے ایئرپورٹ چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اگر کسی مسافر کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو وہ قریبی ہوٹل میں خود کے خرچے پر قرنطینہ حاصل کرے گا۔

دوسری جانب محکمہ سول ایسوسی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود تمام ایئرپورٹ جہاں بیرون ملک سے پاکستانیوں کی آمد جاری ہے وہاں ریپڈ اینٹیجنٹ ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ کراچی ایئر پورٹ پر اس کا افتتاح کر کے محکمہ صحت کی ٹیموں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں: سردار عثمان بزدار

ذرائع کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس وبا کی تیسری لہر سے نمٹنے کے لیے پاکستان اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سردار عثمان بزدار کی جانب سے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر کے کرونا وبا کے لیے مخصوص کیے گئے ہسپتالوں میں محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے وینٹی لیٹرز اور آکسیجن بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کرونا وائرس کی تیسری لہر کے خلاف لڑائی میں تمام تر وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ آکسیجن گیس کے سلنڈرز کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو اب جیل میں ڈالا جائے گا کیونکہ ان کا ٹھکانہ جیل ہے۔ اس کے علاوہ مہنگے داموں آکسیجن سلنڈر بیچنے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کا حکم دے چکا ہوں۔ حکومت پنجاب کسی بھی شخص کو آکسیجن سیلنڈرز کی ذخیرہ اندوزی یا اوورچارجنگ کی اجازت نہیں دے گی۔

ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب کا عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پنجاب کی عوام بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے ماسک کا استعمال کرے اور این سی او سی کی جانب سے گھر جاری کردہ کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔

وزیر صحت پنجاب نے عوام کو اعتکاف کے متعلق ہدایات جاری کر دیں

ذرائع کے مطابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے عوام کو اعتکاف کے متعلق ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے اعتکاف کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لوگ اعتکاف کرنا چاہے تو گھر پے کریں۔ ہمارے لئے دوسرے لوگوں کی زندگی بہت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ کوشش کریں کہ اعتکاف گھر پر ہی کریں۔ اور کوشش ہوگی کہ عید پر ایم سی او سی کی جانب سے جاری کردہ تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل کروایا جائے کیونکہ دوسروں لوگوں کی زندگی بہت اہم ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کا واک ان ویکسینیشن کے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 50 سال سے زائد عمر رکھنے والے افراد کے لیے واک ان ویکسینیشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن سینٹرز پر لوگوں کو تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ لوگ انتظار نہیں کرتے بلکہ ناراض ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم کسی بھی وی آئی پی کلچر کو پرموٹ نہیں کر رہے البتہ تمام پرائیویٹ ایکسیشن سنٹرز کھلے ہوئے ہیں جو وہاں سے ویکسینیشن کروانا چاہے کروا سکتا ہے۔

چینی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ چینی حکومت کی جانب سے پاکستان کو تین کروڑ ویکسین کی کمٹمنٹ آ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھارت کا حال دیکھیں اور پاکستان کا حال دیکھیں۔ ہمارے ہاں مریضوں کی تعداد سمبلی ہوئی ہے ہمیں اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور روزانہ شکرانے کے نفل ادا کرنے چاہیے۔

وزیر صحت پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں افطاری سے لے کر سحری تک لاک ڈاؤن کرنا بہت موثر ثابت ہوا ہے۔ اس لاک ڈاؤن سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ لاہور میں لگایا گیا لوک ڈاؤن سب سے بہتر رہا ہے جتنے مریض کرونا وائرس میں مبتلا ہوتے ہیں اتنے ہی مریض اگلے دن صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

لاہور میں کرونا وائرس کی شرح کے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ لاہور میں 30 فیصد کورونا وائرس کی شرح اب گر کر 18 فیصد تک آگئی ہے۔ اگر اسی طرح سختی سے ایس او پیز پر عملدرآمد ہوتا رہا تو اس سے تیسرا مزید بھی کم ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ اب پنجاب کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر آکسیجن کی قلت پیدا ہوتی ہے تو کابینہ کمیٹی کی اجازت سے ہسپتال میں ہیں آکسیجن جنریٹر لگا سکتے ہیں۔

بلوچستان میں کرونا ویکسینیشن کی مہم جاری

ذرائع کے مطابق صوبہ بلوچستان میں اب تک مجموعی طور پر 23 ہزار سے زائد افراد کرونا ویکسین لگوا چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں اب تک 15 ہزار 553 ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو پہلی کرونا ویکسین لگا دی گئی ہے جبکہ دوسری کرونا ویکسین لگوانے والے ڈاکٹر اور طبی عملے کی تعداد 7 ہزار 139 ہے۔

ذرائع کے مطابق پہلی کرونا ویکسین لگوانے والوں میں 60 سال سے زائد عمر والے افراد کی تعداد 585 ہے جبکہ بلوچستان میں 60 سال سے زائد عمر والے افراد کی تعداد چھ لاکھ ہے۔

محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کرونا ویکسینیشن کی رجسٹریشن نادرا کے سپرد ہے۔

صحت مند ہونے کی چند اہم علامات

ہر شخص کی خوراک کی اپنی ضروریات ہیں، ایسا کوئی فارمولا نہیں جو یہ تخمینہ لگاسکے کہ آپ کو کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے، یہ ہر ایک کی انفرادی ضرورت ہے صحت مند ہونے کی چند اہم نشانیاں درج ذیل ہیں جوکہ آپکو صحت مند ثابت کرتی ہیں

اگر آپ باہر کھانے کے عادی نہیں ہیں تو یہ آپ کی صحت کے لیے اچھا ہے

آپ کتنا کھا سکتے ہیں.. بہت کم یا بہت زیادہ سب سے اہم امر یہ ہے کہ اپنے جسم کی سنیں کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اگر ایسا کرپاتے ہیں تو اچھی صحت آپ کے ہاتھ میں ہی ہے۔

اگر آپ نفسیاتی طور پر کھانے کی لت کے شکار نہیں ہیں تو یہ آپکی صحت کے لیے اچھا ہے

اگر آپ لفٹ کی جگہ سیڑھیوں کو ترجیح دیتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ اچھی جسمانی ساخت رکھتے ہیں

اگر آپ مختلف جذبات کے حامل ہیں تو بھی آپ صحت مند ہیں کبھی کبھار غصہ کرنا اداسی چڑچڑا پن اور مایوسی محسوس کرنا نارمل چیز ہے یہ تمام جذبات اچھی ذہنی صحت کی نشانی ہیں۔

آپکو بستر پر فوراً لیٹتے ہی نہ اگر نیند نہیں آتی تو یہ معمولی بات ہے طبی ماہرین کے مطابق سونے کے عام معمول میں 10 سے 20 منٹ لگتے ہیں کیونکہ اس کے دوران جسم پرسکون ہوتا ہے اور پھر نیند کی حالت میں چلا جاتا ہے۔

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد

موسم سرما کی اک خاص سوغات مونگ پھلی ہے جن سے ہم سب خوب محظوظ ہوتے ہیں مونگ پھلی غذائی اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہے

مونگ پھلی میں Antioxidants پائے جاتے ہیں جو غذائیت کے اعتبار سے سیب، گاجر اور چقندر سے بھی زیادہ ہوتے ہیں جو کم وزن افراد سمیت باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے بھی نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے طبی فوائد کئی امراض سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ مونگ پھلی میں پایا جانے والا وٹامن ای کینسر کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس میں موجود قدرتی فولاد خون کے نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق صحت مند رہنے کے لیے عام انسان ایک دن میں ایک مُٹھی مونگ پھلی کھا سکتا ہے اور اگر آپ کو ‘پینٹ بٹر’ پسند ہے تو آپ ایک دن میں ڈیڑھ ٹیبل اسپون پینٹ بٹر کھا سکتے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کھانے کا بہترین وقت صبح اور دوپہر ہے لیکن آپ مونگ پھلی کو شام میں اسنیکس کے طور پر کھا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کو رات کے کھانے کے وقت یا بستر پر لیٹنے سے پہلے کھانا درست نہیں ہے

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تباہی کی وجہ سے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ بدترین بحران کا شکار ہے:سابق وزیر داخلہ احسن اقبال

ذرائع کے مطابق سابق وزیر داخلہ اور رہنما مسلم لیگ احسن اقبال کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو پرائیویٹائز کر رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس تعلیم اور صحت کا بجٹ ختم ہوچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آج ڈاکٹر زسے ملاقات کے بعد ان کے مسائل کو دیکھتے ہوئے شدید تشویش میں مبتلا ہوں۔ ڈاکٹرز کے بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تباہی کا آغاز سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے ہاتھ ہوا اور عمران خان صاحب کے ہاتھوں یہ بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تباہی سے پنجاب میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ بدترین بحران کا شکار ہے۔ پنجاب میں بنائے جانے والے قانون کے مطابق ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو پرائیویٹائز کیا جارہا ہے ینگ ڈاکٹرز نے جو تحفظات پیش کیے ہیں وہ قابل حل اور حق بجانب ہیں۔ چھ ہزار ینگ ڈاکٹرز کو حکومت تسلیم نہیں کر رہی جنہوں نے پروفیسرز کی زیر نگرانی ٹریننگ حاصل کی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے ڈگری حاصل کر کے آنے والے دس ہزار ڈاکٹرز کو لائسنس جاری کیے جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے اس حالت پر نیشنل ہیلتھ چارٹر تیار کرے گی قومی اور پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے پاس پنجاب کا تعلیمی اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا بجٹ ختم ہو چکا ہے اب ہمیں پنجاب بچاؤ مہم شروع کرنا پڑے گی اس تباہی پر مزید خاموش تماشائی بن کے نہیں بیٹھ سکتے۔