طلباء کی توہین نہ کریں، وہ کوئی مافیا نہیں ہیں، علی معین نوازش

ماہرِ تعلیم علی معین نوازش کا کہنا ہے کہ طلبہ سے امتحانات میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی توقع کرنا غیر منصفانہ ہے میں خود ایک اعلیٰ درجے کا طالب علم رہا ہوں، لیکن ان حالات میں اگر میں نے بھی امتحان دینا ہوتا تو شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا۔

علی معین نوازش نے کہا کہ اسکول بند بھی ہوں تو امیر بچوں کو مہنگی نجی ٹیوشنز ملتی رہی ہیں، جبکہ متوسط ​​طبقے اور پسماندہ خاندانوں کے بچوں کو ان وسائل تک رسائی حاصل نہیں ہے، کیا یہ منصفانہ ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ برطانیہ جس نے کووڈ میں اضافے سے متعلق پاکستان کو ریڈ لسٹ کیا ہے، وہ پاکستان میں جسمانی امتحانات کی اجازت کیوں دے رہا ہے؟
برطابیہ نے بھی دوسری بار طلباء کو اسکولوں کی پیش گوئی پر مشتمل گریڈز دیے ہیں

انکا کہنا تھا کہ طلباء اسکول کے تشخیص شدہ گریڈز کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ آن لائن کلاسز اور ناقص انٹرنیٹ کنکشنز پر غور کرتے ہوئے ان کی تعلیم میں سال بھر رکاوٹیں بنی رہی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے استدعا کی کہ وہ ایسے طلباء کی تذلیل نہ کریں جو ایس اے جیز کا مطالبہ کررہے ہیں، کیونکہ وہ کوئی مافیا نہیں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں